PIR NASSER UD DIN NASSER SHAH SHAB

20 Oct 2012

Ghazals Pir Nasser Din Shah







میکدے کا نظام تم سے ہے،






شیشہ تم سے ہے جام تم سے ہے،

صبح تم سے ہے شام تم سے ہے،






ہر طرح کا نظام تم سے ہے،




سب کو سوزوگداز تم نے دیا،








عشق کا فیضِ عام تم سے ہے،



میں

 زمانے کے روبرو چُُپ ہوں،





بے تکلف کلام تُم سے ہے،



خالِ مشکیں بھی ،زُلف پیچاں بھی،








دانہ تُم سے ہے،دام تُم سے ہے،



مہرِ انور میں ہے تمہاری ضیاء،








حُسنِ ماہِ تمام تُم سے ہے،



تُم ہو بنیاد دونوں عالم کی،








دو جہاں کا قیام تُم سے ہے،



ہم تُمہارے ہیں،تُم ہمارے ہو،








ہم کو عشقِ دوام تُم سے ہے،



اب کسی کو "نصیر"کیا جانے،






اب تو جو کچھ ہے کام تُم سے ہے،


حضور پیر سید نصیرالدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علی




دین سے دور ، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں






تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں






ڈھنگ کی بات کہے کوئی ، تو بولوں میں بھی






مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں






بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے





مطمئن دل ہے بہت ، جب سے الگ بیٹھا ہوں






غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں






محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں






یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام






آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں






عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں






جب سے وہ روٹھ گئے ، تب سے الگ بیٹھا ہوں






میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا





سب میں شامل ہوں ، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

شہزادہِ گولڑہ پیر سید نصیرالدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ







بے رخی کو بھی جو سمجھے تیرا احساں جاناں

جب بھی کرتی ہے میرے دل کو پریشاں دنیا

یاد آتی ہے تیری زلف پریشاں جاناں



میں تیری پہلی نظر کو نہیی بھولا اب تک

آج بھی دل میں ہے پیوست وە پیکاں جاناں

مجھ سے باندھے تھے بنا کر جو ستاروں کو گواە

کر دیے تو نے فراموش وە پیماں جاناں

کبھی آتے ہوۓ دیکھوں تجھے اپنے گھر میں

کاش پورا ہو میرے دل کا یہ ارماں جاناں

اک مسافر کو تیرے شہر میں موت آئ ہے

شہر سے دور نہیی گور غریباں جاناں

یہ تیرا حسن یہ بے خود سی ادائیں تیری

کون رە سکتا ہے ایسے میں مسلماں جاناں

کیوں تجھے ٹوٹ کے چاہے نہ خدائ ساری

کون ہے تیرے سوا یوسف دوراں جاناں؟

جاں بلب، خاک بسر، آە بہ دل خانہ بدوش

مجھ سا کوئ بھی نہ ہو بے سر و ساماں جاناں

یہ تو پوچھ اس سے جس پر یہ بلا گزری ہے

کیا خبر تجھ کو کہ کیا ہے شب ہجراں جاناں؟

یہ وە نسبت ہے جو ٹوٹی ہے نہ ٹوٹے گی کبھی

میں تیرا خاک نشیں، تو میرا سلطاں جاناں

وە تو اک تمہارا تھا کہ آڑے آیا

ورنہ دھر لیتی مجھے گردش دوراں جاناں

کیا تماشا ہو کہ خاماش کھڑی ہو دنیا

میں چلوں حشر میں کہتے ہوۓ جاناں جاناں

در پہ حاضر ہے تیرے آج نصیرعاصی

تیرا مجرم تیرا شرمندە احساں جاناں

تاجدار گولڑہ پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ الله علیہ

No comments:

Post a Comment

Template by:
Free Blog Templates